صاحبزادہ حافظ امتیاز الحق بابا جی سرکار ؒکے بڑے صاحبزادے پر اللہ تعالی کا خاص کرم ہوا قرآن پاک حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ آستانہ پاک میں اپنے والد محترم کی صحبت کاملہ سے فیض یاب ہوتے رہے۔ محترم صاحبزادہ صاحب حافظ امتیاز الحق کو بابا جی سرکار نے اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں فیض روحانی عطا فرمایا او سجادہ نشین ہونے کا اعلان فرمایا۔
حافظ امتیاز الحق صاحب بچپن سے ہی والد صاحب کے ساتھ ملکر دین کی خدمت میں مخلوق خدا کی بھلائی کے کاموں میں مصروف رہتے۔ قرآن پاک سے ہمیشہ محبت کی والدہ صاحبہ بتاتی ہیں کہ بہت چھوٹے تھے قاری صاحب سپارہ پڑھانے آتے تو حافظ صاحب کہتے ہیں امی جان آپ قاری صاحب سے کہیں مجھے زیادہ سبق دیں ۔ اسی طرح سکول کی تعلیم میں بھی بہت ذہین اور جماعت میں پہلی پوزیشن لینے والے ہونہار طالب علم رہے۔ 8ویں جماعت کے بعد حفظ قرآن کے لئے اہلسنت جماعت کے مدرسہ میں بابا جی نے داخل کرایا۔ مدرسے سے واپسی پر باباجی کے پاس آستانہ میں وقت گزرتا صاحبزادہ صاحب نے عام بچوں کی طرح کھیل کود میں وقت ضائع نہیں کیا دین کا علم حاصل کرنا اور اسے آگے پھیلانا بچپن سے ہی صاحبزادہ صاحب کی عادت رہی۔ بارہ سال کی عمر میں” فوائد الفواد” جیسی عظیم کتاب کا درس دیتے رہے۔
ابھی قرآن پاک حفظ کیا ہی تھا کہ باباجی نے اس دنیا سے پردہ فرما لیا۔ یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس کا صدمہ تمام اہل خانہ کے لیے اور مریدین کے لیے بہت تکلیف د ہ تھا۔ ایسے مشکل وقت میں 15 سال کی عمر میں صاحبزادہ صاحب نے گھر والوں کو بھی اور مریدین کو بھی تسلی دی اپنے دکھ کا اظہار کسی کے سامنے نہ کیا۔ یہ ثابت قدمی اور صبر کسی ولی کامل میں ہی ہو سکتا ہے۔سب کا لکھا جاچکا ہے ۔نصیب میں جتنا لکھا جا چکا ہے وہ مل کے رہے گا۔ صاحبزادہ صاحب نے سجادہ نشین کی حیثیت سے گدی کے فرائض بھی پورے کیے اور ساتھ ساتھ اپنی روحانی منازل بھی طے کیں۔
حق تعالیٰ خود حق کے راستے پر چلنے والوں کا ساتھ دیتا ہے صاحبزادہ صاحب حافظ امتیاز الحق صاحب نے ثابت کرکے دکھایا کہ عمر چھوٹی ہے تو کیا ہوا؟ دنیاوی مال و اسباب نہیں تو کیا ہوا؟ قبلہ بابا جی سرکار نے جو تعلیم دے دی تھی جو سکھا دیا تھا جس راستے پر چلا دیا تھا پھر کسی اور کا حکم نہیں ماننا تھا۔ بس مرشد کے حکم کو مان کر چلتے رہے۔ عام طور پر اس عمر میں بچے یتیم ہو جائیں تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آتی پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب کیا ہوگا لیکن اس گھرانے کے بچے بہت صابر شاکر اور خود دار اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے والے ہیں ۔ اور خاص طور پر صاحبزادہ صاحب حافظ امتیاز الحق صاحب نے اپنے فرائض ایسے پورے کیے کہ حضرت امام زین العابدین کی قدموں کی خاک بن کر ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین کی خدمت کی ۔ اور اس راہ میں لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے۔ ( کسی ذاتی کام کے لیے نہیں بلکہ غریبوں میں راشن تقسیم کرنے کا معاملہ ہو یا کسی غریب کی بیٹی کی شادی کے لیے جہیز کا معاملہ ہو تو اس وقت آستانہ پاک میں آنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ حصہ ڈالیں)۔ صاحبزادہ صاحب حافظ امتیاز الحق صاحب نے ایک سچے عاشق رسول کی طرح ہر محاذ پر دین کی خدمت کو مقصد حیات بنا لیا۔
تحفظ ناموس رسالت کے نام سے ایک کتاب لکھی جب یہ لکھنے کا کام کر رہے تھے تو اس وقت سے لوگوں نے تنقید کی کہ یہ کام تو اور بھی بہت سے لوگ کر رہے ہیں محترم حافظ صاحب نے فرمایا میں اس آگ کو بجھانے کے لیے اپنا حصہ ڈال رہا ہوں جو نمرود نے جلائی ہے یعنی گستاخ رسول،جو قادیانیت کا فتنہ پھیلا رہے ہیں اس کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے اللہ والے خاموش رہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ کتاب اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوئی اور نبی پاکﷺکی بارگاہ سے محترم صاحبزادہ صاحب کو بہت فیض عطا ہوا روحانی فیض بڑھتا گیا اور لکھنے کا سلسلہ چلتا رہا نبی پاکﷺ کے خصائل میں سے ایک خاص علم غیب بھی ہے محترم حافظ صاحب علم غیب پر کتاب لکھی۔ اور اسی طرح پھر آستانہ پاک سے خصائل مصطفیﷺ کے نام سے ایک اور خوبصورت کتاب لکھی گئی۔ لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔
محترم صاحبزادہ صاحب نے کم عمری میں وہ سب کام کئے وہ بڑے بڑے آستانوں کے گدی نشین نہ کر سکے۔ اب قبلہ بابا جی سرکارؒ کا خواب پورا کرتے ہوئے 2016 میں ادارہ جاءالحق قائم کیا اس میں دینی اور علمی کلاسز کا آغاز ہوا قرآن پاک ناظرہ کے ساتھ ساتھ بچوں کو نعت نقابت اور بیان کرنا بھی سکھایا جاتا ہے اور علمی ذوق شوق بڑھانے کے لیے انعامات بھی تقسیم کئے جاتے ہیں۔ صاحبزادہ صاحب ہر اسلامی مہینے کے اہم واقعات کو ہفتہ وار جمعرات کی محفل میں بیان فرماتے ہیں ربیع الاول کا مہینہ ہو یا محرم کا ہراسلامی مہینے میں اہل بیت اطہارؓ، صحابہ کرامؓ بزرگان دین کے عرس مبارک کے حوالے سے بیان ہوتا ہے۔
امام پاک کون تھے؟ حسینیت کیا ہے؟ یزیدیت کیا ہے؟ یہ سب وضاحت کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔محرم کے مہینے میں صرف واقعہ کربلا ہی بیان نہیں ہونا چاہیے علماء کرام کی طرف سے ایک دکھ بھری تقریر اور امام پاک کو مظلوم ثابت کرنا مقصد نہیں۔ بزرگان دین نے ہمارے مرشد نے سکھا دیا کہ حالات کیسے سخت ہوں کتنی ہی مشکلیں آئیں پنج تن پاک کے غلام دین کی خدمت کا کام جاری رکھتے ہیں ایمانی قوت اور یقین کامل ہونا چاہیے اسی تعلیم کو اولیاء کرام پھیلاتے ہیں۔ بڑی بڑی محفل نعت سجا لینا نعت اور منقبت اور پرجوش نقابت کرلینے سے حق ادا نہیں ہوتا یارسول اللہﷺ کا نعرہ لگا لینا کافی نہیں اور نعرہ حیدری لگانے والوں کو مولا علیؓ شیر خدا کی طرح دین کی خدمت کرنی ہوگی۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کے غلاموں کو حضرت غوث پاکؒ کے غلاموں کو دین اسلام کی جانی مالی علمی قلمی اور زبانی خدمت بھی کرنی ہوگی۔














