Ibaad ur Rehman عباد الرحمن

عباد الرحمٰن
اللہ رب العزت اپنی خاص رحمت کے حق دار بندوں کی صفات جویقیناً اولیاء اللہ میں پائی جاتی ہیں،سورۃ الفرقان میں یوں بیان فرمائی ہیں :
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا۔۔( (الفرقان: 63،64)
ترجمہ:”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔اور جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے اور قیام میں۔۔“

سورۃ فرقان آیات 63 یا 77 میں کامل مومنین کے تقریباً12اَوصاف بیان کئے گئے ہیں ،ان کا خلاصہ یہ ہے۔
(1)وہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔یعنی اپنے مقام و مرتبہ کے باوجود بہت زیادہ عاجزی اور انکساری سے کام لیتے ہیں۔
(2) جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں  تو کہتے ہیں بس  ’’ سلام‘‘۔ یعنی ان کے جہالت بھرے کلمات پر اپنا دھیان نہیں رکھتے۔اگر بے ادب گستاخ لوگوں کی جہالت بھری باتوں کی وجہ آپ سیدھا راستہ چھوڑ دیں گے تو آپ کبھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتے۔شیطانی صفت رکھنے والے لوگوں کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ یہ اللہ والوں کو تنگ کرتے ہیں۔ جیسے قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ لوگوں نے کتنا برا سلوک کیا اولیاء کرام ؒ کے ساتھ بھی لوگ کیسے پیش آئے۔ہر امت میں ایسے مشرکین مخالفین اور منافقین موجود ہوتے ہیں۔
(3) وہ اپنے رب عزوجل کے لیے سجدے اور قیام کی حالت میں  رات گزارتے ہیں ۔ اللہ والے راتوں کو کم سوتے ہیں اور اپنے نرم و گداز بستروں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تہجد کی نماز میں لمبا قیام اور طویل رکوع و سجود ان کے دلوں کو سکون دیتا ہے۔ اللہ نے بھی ان سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں قیامت میں وہ کچھ دے گا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ (سورۃ السجدہ: 17)
(4)جہنم کا عذاب پھر جانے کی اللہ تعالیٰ سے دعائیں  کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کو جتنا زیادہ عرفان حق حاصل ہو گا وہ اتنا ہی زیادہ خدا کے عذاب اور اس کی پکڑ سے ڈرے گا۔ یہ بندگانِ رحمٰن دوزخ کی صحیح کیفیت سے تعلیمات ربانی کی روشنی میں باخبر ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ دوزخ کا عذاب بڑا دردناک اور رسوا کن ہے۔ وہ اپنے مالک سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ انہیں اس عذاب سے محفوظ رکھے۔ آنحضورﷺ کے بارے میں بکثرت احادیث میں آتا ہے کہ آپﷺ آخرت کا ذکر کر کے نہایت مغموم ہو جایا کرتے تھے۔
(5) اِعتدا ل سے خرچ کرتے ہیں ،اس میں نہ حد سے بڑھتے ہیں  اور نہ تنگی کرتے ہیں ۔ وہ نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ بخل و کنجوسی کرتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: جو میانہ روی اختیار کرے گا وہ کسی کا محتاج نہ ہو گا۔ کنجوسی اور اسراف کی قرآن و حدیث میں بہت مذمت کی گئی ہے۔
(6) اللہ عزوجل کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں  کرتے۔ یہی سچے توحید پرست اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ اللہ نے قرآنِ مجید میں بار بار فرمایا ہے کہ وہ شرک معاف نہیں کرے گا‘ اس کے علاوہ جوجرائم ہیں، ان میں سے جو چاہے وہ معاف فرما دے گا۔
(7) جس جان کو ناحق قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے، اسے قتل نہیں  کرتے۔(8) بدکاری نہیں  کرتے۔
(9) جھوٹی گواہی نہیں  دیتے۔ یعنی کبیرہ گناہوں سے بچتے رہتے ہیں۔
(10)جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں  تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ اپنی صحبت کا خاص خیال رکھتے ہیں ہر عام و دنیاوی محفل میں نہیں بیٹھ جاتے۔بلکہ خاص اللہ و اسکے رسولﷺ کے ذکر کی محافل میں شامل ہوتے ہیں۔
(11) جب انہیں  ان کے رب عزوجل کی آیتوں  کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں  گرتے۔ اصل فتنہ وہی ہوتا ہے جو قرآن و حدیث کا نام لے گمراہ کرے۔ اسلیے یہ بندگان رحمٰن قرآن و حدیث کے نام پرا ن فتنوں سے دھوکہ نہیں کھاتے بلکہ اصل تعلیمات و اسلام کی روح سے جڑے رہتے ہیں۔
(12) وہ یوں  دعا کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہماری بیویوں  اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں  کی ٹھنڈک عطا فرمااور ہمیں  پرہیزگاروں  کا پیشوا بنا۔

YouTube player
Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *